(۱۹۳۳۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، أن ابْنَ سِیرِینَ قَالَ : کَانَ یَرَی لِکُلِّ حَامِلٍ نَفَقَۃً قَالَ : فولی أُمِّ وَلَدٍ یَعْلَی بْنُ خَالِدٍ ، فَکَانَ یَرَی لَہَا النَّفَقَۃَ فَکَرِہَ أَنْ یُنْفِقَ دُونَ الْقَاضِی ، فَأَرْسَلَ إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ یَعْلَی فَمَنَعَہَا ہو ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ : یُنْفَقُ عَلَیْہَا فَإِنْ وَلَدَتْہُ حَیًّا فَنَفَقَتُہَا مِنْ نَصِیبِ وَلَدِہَا ، وَإِنْ وَلَدَتْہُ مَیِّتًا أُلْغِیَ ذَلِکَ۔
(١٩٣٣٠) حضرت ابن سیرین (رض) ہر حاملہ کے لیے نفقہ کے قائل تھے۔ یعلی بن خالد کی ام ولد کے لیے انھوں نے نفقہ کی رائے دی تھی لیکن وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ام ولد پر قاضی کے بغیر خرچ کیا جائے۔ انھوں نے عبد الملک بن یعلی کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے نفقہ سے منع کردیا۔ حضرت حسن فرمایا کرتے تھے کہ اس پر خرچ کیا جائے گا۔ اگر زندہ بچے کو جنم دے تو اس کا نفقہ بچے کے حصے میں سے ہوگا اور اگر مردہ بچے کو جنم دے تو اسے لغو قرار دے دیا جائے گا۔