(۱۹۳۸۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ أُمَّ الْبَنِینَ بِنْتَ عُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ کَانَتْ تَحْتَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَلَمَّا حُصِرَ طَلَّقَہَا وَقَدْ کَانَ أَرْسَلَ إلَیْہَا لِیَشْتَرِیَ مِنْہَا ثُمْنَہَا فَأَبَتْ فَلَمَّا قُتِلَ أَتَتْ عَلِیًّا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : تَرَکَہَا حَتَّی إذَا أَشْرَفَ عَلَی الْمَوْتِ طَلَّقَہَا ، فَوَرَّثَہَا۔
(١٩٣٨١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ ام بنین بنت عیینہ بن حصن (رض) ، حضرت عثمان بن عفان (رض) کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت عثمان (رض) کا کاشانہ خلافت میں محاصرہ کیا گیا تو انھوں نے ام بنین کو طلاق دے دی۔ وہ ان کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے کہ ان سے ان کا ثمن خرید لیں لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ام بنین نے اس بات کا تذکرہ حضرت علی سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ انھوں نے اسے چھوڑ دیا پھر جب موت کے قریب ہوئے تو اسے طلاق دے دی اور اسے وارث بنادیا۔