(۱۹۳۸۴) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ ہِشَامٍ قَالَ : سَأَلْتُ عُرْوَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ الْبَتَّۃَ ، أَیَرِثُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ ؟ وَہَلْ لَہَا نَفَقَۃٌ ؟ فَقَالَ : لاَ یَرِثُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ وَلاَ نَفَقَۃَ لَہَا إلاَّ أَنْ تَکُونَ حُبْلَی ، فَیُنْفِقَ عَلَیْہَا حَتَّی تَضَعَ ، أَوْ یُطَلِّقَ مُضَارًّا فِی مَرَضِہِ۔
(١٩٣٨٤) حضرت ہشام (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حتمی طلاق دے دے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ؟ اور کیا عورت کو نفقہ ملے گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور عورت کو نفقہ بھی نہیں ملے گا، البتہ اگر حاملہ ہو تو نفقہ ملے گا۔ آدمی بچے کی پیدائش تک اس پر خرچ کرے گا ۔ اسی طرح اگر مرض الموت میں عورت کو نقصان پہنچانے کے لیے طلاق دے تب بھی یہی حکم ہے۔