(۱۹۳۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : حلَفَ أَخِی عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ : بِعْتِقِ جَارِیَۃٍ لَہُ أَلاَّ یَشْرَبَ مِنْ یدہا ، إلَی أَجَلٍ ضَرَبَہُ ، فَنَسِیَ قَبْلَ الأَجَلِ فَشَرِبَ ، فَاسْتَفْتَیْت لَہُ عَطَائً وَمُجَاہِدًا وَسَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، وَعَلِیًّا الأَزْدِیَّ ، فَکُلُّہُمْ رَأَی أَنَّہَا حُرَّۃٌ۔
(١٩٣٨٩) حضرت عبداللہ بن عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ میرے بھائی عمر بن عثمان (رض) نے اس بات کی قسم کھائی کہ فلاں مدت تک اگر فلاں باندی کے ہاتھ سے پیوں تو وہ آزاد ہے۔ پھر وہ مدت پوری ہونے سے پہلے بھول گئے اور اس کے ہاتھ سے پی لیا۔ میں نے حضرت عطائ، حضرت مجاہد، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت علی ازدی (رض) سے اس بارے میں سوال کیا تو ان سب نے یہی کہا کہ وہ آزاد ہے۔