(۱۹۴۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بن أبی کثیر ، عَنْ سلمان أَبِی مَیْمُونَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَہَا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اسْتَہِمَا فِیہِ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَنْ یَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ ابْنِی ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلاِبْنِ : اخْتَرْ أَیَّہُمَا شِئْت قَالَ : فَاخْتَارَ أُمَّہُ فَذَہَبَتْ بِہِ۔
(احمد ۲/۴۴۷۔ طحاوی ۳۰۸۸)
(١٩٤٦٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی۔ وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میاں بیوی بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرلو۔ آدمی نے کہا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچے سے فرمایا کہ جس کو چاہو اختیار کرلو۔ بچے نے ماں کو اختیار کرلیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔