hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 19467

.

ابن أبي شيبة

19467
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۴۶۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ الْجَرْمِیِّ قَالَ : غَزَا أَبِی نَحْوَ الْبَحْرِ فِی بَعْضِ تِلْکَ الْمَغَازِی قَالَ : فَقُتِلَ فَجَائَ عَمِّی لِیَذْہَبَ بِی فَخَاصَمَتْہُ أُمِّی إلَی عَلِیٍّ قَالَ : وَمَعِی أَخٌ لِی صَغِیرٌ قَالَ : فَخَیَّرَنِی عَلِیٌّ ثَلاَثًا فَاخْتَرْت أُمِّی فَأَبَی عَمِّی أَنْ یَرْضَی قَالَ : فَوَکَزَہُ عَلِیٌّ بِیَدِہِ وَضَرَبَہُ بِدِرَّتِہِ وَقَالَ : وَہَذَا أَیْضًا لو قَدْ بَلَغَ خُیِّر۔
(١٩٤٦٨) حضرت عمارہ بن ربیعہ جرمی (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد ایک سمندری غزوہ میں شہید ہوگئے۔ میرے چچا مجھے لینے کے لیے آگئے۔ میری والدہ اس مقدمہ کو لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ میرا چھوٹا بھائی بھی میرے ساتھ تھا۔ حضرت علی (رض) نے مجھے تین مرتبہ اختیار دیا تو میں نے اپنی والدہ کو اختیار کیا۔ میرے چچا نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تو حضرت علی (رض) نے انھیں مکا مارا اور انھیں اپنا کوڑا مارا اور فرمایا کہ یہ فیصلہ ہوچکا اور جب یہ بالغ ہوگا تو اسے اختیار دیا جائے گا۔