(۱۹۴۸۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : إذَا دَخَلَتِ الْمَرْأَۃُ عَلَی زَوْجِہَا وَمَعَہَا حُلِیٌّ وَمَتَاعٌ فَمَکَثَتْ عِنْدَ زَوْجِہَا حَتَّی تَمُوتَ فَہُوَ مِیرَاثٌ ، وَإِنْ أَقَامَ أَہْلُہَا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ کَانَ عَارِیَّۃً عِنْدَہَا إلاَّ أَنْ یَکُونُوا قَدْ أَعْلَمُوا بذَلِکَ الزَّوْجَ فِی حَیَاتِہَا قَبْلَ مَوْتِہَا۔
(١٩٤٨٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت اپنے خاوند کے پاس آئے اور اس کے پاس زیورات اور سامان ہوں اور وہ اپنے خاوند کے پاس ٹھہرے۔ پھر اس کے خاوند کا انتقال ہوجائے تو یہ سب کچھ میراث ہوگا۔ خواہ عورت کے گھر والے اس بات پر گواہی بھی قائم کردیں کہ یہ اس کے پاس صرف استعمال کے لیے تھا۔ البتہ اگر وہ خاوند کی زندگی میں اس بات کو واضح کردیں تو ٹھیک ہے۔