(۱۹۵۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ سُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرَأَیْت قَوْلَ اللہِ تَعَالَی : {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَأَیْنَ الثَّالِثَۃُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} ہِیَ الثَّالِثَۃُ۔ (ابوداؤد ۲۲۰۔ بیہقی ۳۴۰)
(١٩٥٦١) حضرت ابو رزین (رض) کہتے ہیں کہ ایک صاحب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } میں دو طلاقوں کا تذکرہ ہے، تیسری طلاق کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا مہربانی کے ساتھ روکنا یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہی تیسری طلاق ہے۔