(۱۹۵۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنَ سَالِمٍ ، قَالَ : خَرَجَ مُجَاہِدٌ وَأَصْحَابٌ لَہُ ، فِیہِمْ عَبْدَۃُ بْنُ أَبِی لُبَابَۃَ ، قَالَ : خَرَجُوا حُجَّاجَا ، فَکَانَ عَبْدَۃُ یَؤُمُّہُمْ فِی الصَّلاَۃِ ، قَالَ : فَبَرَزَ ذَاتَ یَوْمٍ لِحَاجَتِہِ ، فأَبْطَأَ عَلَیْہِمْ ، فَلَمَّا جَائَ قَالَ لَہُ مُجَاہِدٌ : مَا حَبَسکَ ؟ قَالَ : إِنَّما قَضَیْتُ حَاجَتِی ، ثُمَّ تَوَضَّأْتُ ، وَمَسَحْتُ عَلَی خُفِّی ، فَقَالَ لَہُ مُجَاہِدٌ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ بِنَا ، فَمَا أَدْرِی مَا حَسْبُ صَلاَتِکَ۔
(١٩٥٧) حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور ان کے کچھ ساتھی جن میں حضرت عبداہ بن ابی لبابہ بھی تھے۔ وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے۔ حضرت عبدہ انھیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ رفع حاجت کے لیے گئے، اور بہت دیر کردی۔ جب وہ آئے تو حضرت مجاہد نے ان سے کہا کہ تم نے دیر کیوں کی ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے رفع حاجت کی، پھر میں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ حضرت مجاہد نے فرمایا چلو آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ میں نہیں جانتا کہ تمہاری نماز کے لیے کیا چیز کافی ہے (دھونا یا مسح کرنا ؟ )