(۱۹۶۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ أَبِی طَلْقٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ثُرَیْبٍ قَالَ: أَکْرَیْتُ الْحُجَّاجَ، فَدَخَلْت الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِذَا عُمَرُ وَجَرِیرٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِجَرِیرٍ : یَا أَبَا عمْرٍو کَیْفَ تَصْنَعُ مَعَ نِسَائِکَ؟ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنِّی أَلْقَی مِنْہُنَّ شِدَّۃً ، مَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أَدْخُلَ بَیْتَ إحْدَاہُنَّ فِی غَیْرِ یَوْمِہَا ، وَلاَ أُقَبِّلُ ابْنَ إحْدَاہُنَّ فِی غَیْرِ یَوْم أُمِّہِ إلاَّ غَضِبْنَ : قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : إنَّ کَثِیرًا مِنْہُنَّ لاَ یُؤْمِنَّ بِاللَّہِ وَلاَ یُؤْمِنَّ لِلْمُؤْمِنِینَ ، لَعَلَّکَ أَنْ تَکُونَ فِی حَاجَۃِ إحْدَاہُنَّ فَتَتَّہِمُک ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَہُوَ فِی الْقَوْمِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ إبْرَاہِیمَ شَکَا إلَی اللہ دَرْئًا فِی خُلُقِ سَارَۃَ قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : إنَّ الْمَرْأَۃَ مِثْلُ الضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتہَا کَسَرْتہَا ، وَإِنْ تَرَکْتہَا اعْوَجَّتْ ، فَالْبَسْ أَہْلَک عَلَی مَا فِیہِمْ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللہِ : إنَّ فِی قَلْبِکَ مِنَ الْعِلْمِ غَیْرَ قَلِیلٍ ، قَالَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، زَادَ فِیہِ بَعْضُ أَصْحَابِہِ ، أَظُنُّہُ سُفْیَانَ : مَا لَمْ یَرَ عَلَیْہَا خَرَبۃ فِی دِینِہَا۔
(١٩٦١٦) حضرت اوس بن ثریب (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے ارادے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے تو مسجد میں حضرت عمر (رض) اور حضرت جریر (رض) تھے۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت جریر (رض) سے پوچھا کہ اے ابو عمرو (رض) ! آپ کا اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ مجھے ان کی طرف سے بہت سختی کا سامنا ہے۔ میں ان میں سے کسی کے کمرے میں باری کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ان میں سے کسی کے بچے کو بھی اس کی ماں کی باری کے علاوہ کسی اور دن چوم لوں تو وہ غصے میں آجاتی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ان میں بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین کو مانتی ہیں۔ بلکہ اگر تمہیں ان میں سے کسی کی کبھی ضرورت ہو تو وہ تم پر ہی الزام دھریں گی۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ (علیہ السلام) کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے تین مرتبہ حضرت عبداللہ (رض) سے فرمایا کہ تمہارے دل میں بہت زیادہ علم ہے۔