hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 19629

.

ابن أبي شيبة

19629
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۳۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تُحَدِّثُ أَنَّہَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأَمَّ حَبِیبَۃَ تَذْکُرَانِ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ أَنَّ ابْنَۃً لَہَا تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا فَاشْتَکَتْ عَیْنُہَا فَہِیَ تُرِیدُ أَنْ تَکْحُلہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قدْ کَانَتْ إحْدَاکُنَّ تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ، وَإِنَّمَا ہِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ، قَالَ حُمَیْدٌ : فَسَأَلْت زَیْنَبَ : مَا رَمْیُہَا بِالْبَعْرَۃِ ؟ فَقَالَتْ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَمَدَتْ إلَی شَرِّ بَیْتٍ لَہَا ، فَجَلَسَتْ فِیہِ سَنَۃً ، فَإِذَا مَرَّتِ السَّنَۃُ خَرَجَتْ ، وَرَمَتْ بِبَعْرَۃٍ مِنْ وَرَائَہَا۔ (مسلم ۶۱۔ ترمذی ۱۱۹۷)
(١٩٦٣٠) حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ (رض) روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ان کی ایک بیٹی کا خاوند انتقال کرگیا ہے۔ اس کی آنکھ میں تکلیف ہے اور وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے ایک سال پورے ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی، اب تو عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت حمید (رض) راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ (رض) سے سوال کیا کہ اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک بدترین کمرے میں جابیٹھتی تھی، ایک سال تک وہیں رہتی جب سال پورا ہوجاتا تو باہر نکلتی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔