(۱۹۶۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی عَلِیٍّ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَزَعَمَتْ أَنَّہَا حَاضَتْ فِی شَہْرٍ ثَلاَثَ حِیَضٍ ، وَطَہُرَتْ عِنْدَ کُلِّ قُرْئٍ وَصَلَّتْ ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِشُرَیْحٍ : قُلْ فِیہَا فَقَالَ شُرَیْحٌ : إِنْ جَائَتْ بَیِّنَۃٌ مِنْ بِطَانَۃِ أَہْلِہَا مِمَّنْ یُرْضَی بِدِینِہِ وَأَمَانَتِہِ یَشْہَدُونَ أَنَّہَا حَاضَتْ فِی شَہْرٍ ثَلاَثَ حِیَضٍ وَطَہُرَتْ عِنْدَ کُلِّ قُرْئٍ وَصَلَّتْ فَہِیَ صَادِقَۃٌ وَإِلاَّ فَہِیَ کَاذِبَۃٌ فَقَالَ عَلِیٌّ : قالون ، وَعَقَدَ ثَلاَثِینَ بِیَدِہِ یَعْنِی بِالرُّومِیَّۃِ۔
(١٩٦٤١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی، حضرت علی (رض) کے پاس آئی اور اس کا خیال تھا کہ اسے ایک مہینے میں تین حیض آچکے ہیں اور وہ ہر حیض سے پاک ہو کر نماز پڑھ چکی ہے۔ حضرت علی (رض) نے حضرت شریح (رض) کو اس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر اس کے رشتہ داروں میں سے دیندار اور امانتدار لوگ گواہی دیں کہ اسے ایک مہینے میں تین حیض آئے ہیں اور یہ ہر حیض سے پاک ہو کر نماز ادا کرتی رہی ہے تو یہ سچی ہے اور اگر وہ گواہی نہ دیں تو یہ جھوٹی ہے۔ حضرت علی (رض) نے اس جواب پر رومی انداز میں پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔