(۱۹۶۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إلَی مُؤْتَۃَ فَاسْتَعْمَلَ زَیْدًا ، فَإِنْ قُتِلَ زَیْدٌ فَجَعْفَرٌ ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَۃَ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَۃَ یُجَمِّعُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا خَلَّفَک ، فَقَالَ : أُجَمِّعُ مَعَکَ ، فَقَالَ : لَغَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ ، خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔
(ترمذی ۱۶۳۹۔ احمد ۱/۲۵۶)
(١٩٦٤٩) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید (رض) کو سپہ سالار مقرر کیا، آپ نے حکم دیا کہ اگر زید (رض) شہید ہوجائیں تو جعفر (رض) کو امیر بنا لیا جائے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنا لیا جائے۔ لشکر کی روانگی کے باوجود حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے پیچھے رہ گئے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا تو پوچھا کہ آپ پیچھے کیوں رہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھنے کی غرض سے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام لگانا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔