(۱۹۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ یَرْفَعُہُ ، قَالَ : أَتَتْہُ امْرَأَۃٌ قُتِلَ ابْنُہَا ، وَلَمْ یَکُنْ لَہَا غَیْرُہُ وَکَانَ اسْمُہُ حَارِثَۃَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ إِنْ یَکُنْ فِی الْجَنَّۃِ أَصْبِرُ ، وَإِنْ یَکُنْ فِی غَیْرِ ذَلِکَ فَسَتَعْلَمُ مَا أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا جِنَانٌ کَثِیرَۃٌ وَإِنَّہُ فِی الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَی۔ (بخاری ۳۹۸۲)
(١٩٦٦٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک جنگ میں ایک عورت کا بیٹا شہید ہوگیا جس کا نام حارثہ (رض) تھا۔ اس عورت کا اپنے بیٹے کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ وہ عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی۔ اگر وہ جنت کے علاوہ کہیں اور ہے تو میں ایسا ماتم کروں گی کہ سب کو پتہ چل جائے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ تو جنت الفردوس میں ہے۔