(۱۹۶۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی زَیْنَبَ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : ذُکِرَ الشُّہَدَائُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ تَجِفُّ الأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّہِیدِ حَتَّی تَبْتَدِرَہُ زَوْجَتَاہُ کَأَنَّہُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا فَصِیلَیْہِمَا فِی بَرَاحٍ مِنَ الأَرْضِ وَفِی یَدِ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا حُلَّۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (احمد ۲/۴۲۷)
(١٩٦٦٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کچھ شہداء کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا ابھی شہید کا لہو زمین پر خشک نہیں ہوتا کہ جنت میں اس کی دو بیویاں اس طرح سے بےتاب ہو کر اس کا انتظا کرتی ہیں جیسے کسی دودھ پلانے والی ماں کا دوھ پیتا بچہ زمین پر گم ہوجائے اور وہ اس کو تلاش کرے۔ ان دونوں کے ہاتھوں میں (شہید کے استعمال کے لیے) ایسا قیمتی جوڑا ہوتا ہے جو ساری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے زیادہ قیمتی ہے۔