(۱۹۶۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْجُہَنِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُونُ خَیْرُ النَّاسِ فِیہِ مَنْزِلَۃً مَنْ أَخَذَ بِعَنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللہِ کُلَّمَا سَمِعَ بِہَیْعَۃٍ اسْتَوَی عَلَی مَتْنِہِ ، ثُمَّ یَطْلُبُ الْمَوْتَ فِی مَظَانِّہِ ، وَرَجُلٌ فِی شِعْبٍ مِنْ ہَذِہِ الشِّعَابِ ، یُقِیمُ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ ، وَیَدَعُ النَّاسَ إِلاَّ مِنْ خَیْرٍ۔ (مسلم ۱۲۷۔ ابن حبان ۴۶۰۰)
(١٩٦٧١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اللہ کے نزدیک درجے کے اعتبار سے سب سے بہترین شخص وہ ہوگا جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر چل کھڑا ہو، جب بھی وہ کوئی خطرہ محسوس کرے تو لپک کر گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ پھر موت کو موت کی جگہوں پر تلاش کرے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں چلا جائے وہاں نماز قائم کرے، زکوۃ ادا کرے اور لوگوں کو خیر کی خاطر چھوڑ دے۔