hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 19696

.

ابن أبي شيبة

19696
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۶۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَش ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ شَجَرَۃَ ، قَالَ : السُّیُوفُ مَفَاتِیحُ الْجَنَّۃِ ، فَإِذَا تَقَدَّمَ الرَّجُلُ إلَی الْعَدُوِّ قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ : اللَّہُمَّ انْصُرْہُ ، وَإِنْ تَأَخَّرَ ، قَالَتْ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ ، فَأَوَّلُ قَطْرَۃٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِ السَّیْفِ یُغْفَرُ لَہُ بِہَا من کُلُّ ذَنْبٍ ، وَیَنْزِلُ عَلَیْہِ حَوْرَاوَانِ تَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْہِہِ وَتَقُولاَنِ : قَدْ آنَ لَکَ وَیَقُولُ لَہُمَا : وأنتما قَدْ آنَ لَکُمَا۔
(١٩٦٩٧) حضرت یزید بن شجرہ (رض) فرماتے ہیں کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں، جب کوئی شخص دشمن کی طرف بڑھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ ! اس کی مدد فرما۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! اسے معاف فرما۔ تلوار کا وار لگنے سے ہونے والے زخم سے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے جنت سے دو حوریں اترتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم تیرے لیے ہیں۔ وہ ان دونوں سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیے ہوں۔