(۱۹۷۱۲) حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُد بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَوْدِیُّ ، أَنَّ وَبَرَۃَ أَبَا کُرْزٍ الْحَارِثِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ الرَّبِیعَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسِیرُ ، إذْ ہُوَ بِغُلاَمٍ مِنْ قُرَیْشٍ شَابٍّ مُعْتَزِلٍ عَنِ الطَّرِیقِ یَسِیرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلَیْسَ ذَلِکَ فُلاَنٌ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ: فَادْعُوہُ ، قَالَ : مَا لَکَ اعْتَزَلْتَ من الطَّرِیقِ ؟ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَرِہْتہ لِلْغُبَارِ، قَالَ : فَلاَ تَعْتَزِلُہُ ، فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّہُ لَذَرِیرَۃُ الْجَنَّۃِ۔ (ابوداؤد ۳۰۵۔ نسائی ۸۸۱۹)
(١٩٧١٢) حضرت ربیع بن زید (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلتے جا رہے تھے کہ قریش کا ایک لڑکا رستے سے ذرا ہٹ کر چل رہا تھا۔ آپ نے اسے دیکھ کر اس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ فلاں لڑکا نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں وہی ہے۔ آپ نے اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ تم راستے سے ہٹ کر کیوں چل رہے ہو ؟ اس نے کہا : کہ میں غبار سے بچنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ راستے سے ہٹ کر نہ چلو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! یہ غبار جنت کی خوشبو ہے۔