(۱۹۷۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْوَلِیدِ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلَی عَبْدِ بْنِ مَخْرَمَۃَ صَرِیعًا عَامَ الْیَمَامَۃِ ، فَوَقَفَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَر ، ہَلْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فاجْعَلْ لِی فِی ہَذَا الْمِحَنِ ماء لَعَلِّی أُفْطِرُ ، فَأَتَیْت الْحَوْضَ وَہُوَ مَمْلُوئٌ دَمًا فَضَرَبْتہ بِحجْفَۃٍ مَعِی ، ثُمَّ اغْتَرَفْت فِیہِ فَأَتَیْتہ فَوَجَدْتہ قَدْ قَضَی۔
(١٩٧٦٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں، میں حضرت عبداللہ بن مخرمہ (رض) کے پاس آیا، وہ زخموں سے چور زمین پر پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوا تو انھوں نے پوچھا : اے عبداللہ بن عمر (رض) ! کیا روزے دار نے افطار کرلیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! انھوں نے فرمایا کہ پھر مجھے اس ڈھال میں پانی دے دو تاکہ میں افطار کرلوں۔ میں پانی لینے حوض پر گیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو الگ کر کے پانی لیا، جب میں ان کے پاس آیا تو ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔