(۱۹۷۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ زِیَادٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ ، قَالَ : مَا کَانَ فِی الأَرْضِ لَیْلَۃً ، أُبَشَّرُ فِیہَا بِغُلاَمٍ ، وَیُہْدَی إلَیَّ عَرُوسٌ أَنَا لَہَا مُحِبٌّ أَحَبَّ إلَیَّ مِنْ لَیْلَۃٍ شَدِیدَۃِ الْجَلِیدِ فِی سَرِیَّۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ أُصَبِّحُ بِہِمُ الْعَدُوَّ ، فَعَلَیْکُمْ بِالْجِہَادِ۔
(١٩٧٦٧) حضرت خالد بن ولید (رض) فرماتے ہیں کہ روئے زمین پر ایسی رات جس میں مجھے ایک بیٹے کی خوشخبری دی جائے اور میری طرف ایک ایسی دلہن بھیجی جائے جس سے میں محبت رکھتا ہوں، اس رات سے زیادہ پسند نہیں، جو سخت مشقت والی ہو، میں مجاہدین کے ایک لشکر کے ساتھ اسے بسر کروں اور صبح کو انھیں لے کر دشمن پر حملہ کر دوں۔ پس تم پر جہاد لازم ہے۔