(۱۹۷۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : کَانَ فُرِضَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَنْ یُقَاتِلَ الرَّجُلُ مِنْہُمَ الْعَشَرَۃَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، قَوْلُہُ تعلی {إنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِئَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِئَۃ یَغْلِبُوا أَلْفًا} فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ التَّخْفِیفَ فَجَعَلَ عَلَی رَجُلٍ یُقَاتِلُ الرَّجُلَیْنِ قولہ تعالی : {فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِئَۃ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوا مِئَتَیْنِ} فَخَفَّفَ عَنْہُمْ ذَلِکَ وَنُقِصُوا مِنَ النَّصْرِ بِقَدْرِ ذَلِکَ۔ (بخاری ۴۶۵۲۔ ابوداؤد ۲۶۳۹)
(١٩٧٩٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں پر اس بات کو فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس مشرکوں سے قتال کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ) اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو ہیں تو وہ ہزار پر غالب آئیں گے۔ یہ بات مسلمانوں پر دشوار گذری تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ ایک آدمی دو مشرکوں سے قتال کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ترجمہ) اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہیں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ بعد میں ان پر اس میں بھی تخفیف کردی گئی اور مدد میں اسی کے بقدر کمی کردی گئی۔