(۱۹۷۹۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَمَعَنَا حُذَیْفَۃُ، وَعَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَشَرِبَ الْخَمْرَ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَحُدَّہُ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: تَحُدُّونَ أَمِیرَکُمْ ، وَقَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ فَیَطْمَعُونَ فِیکُمْ ، فَقَالَ : لأَشْرَبَنَّہَا ، وَإِنْ کَانَتْ مُحَرَّمَۃً ، وَلأَشْرَبَنَّ عَلَی رَغْمِ مَنْ رَغِمَ۔
(١٩٧٩٩) حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت حذیفہ (رض) کے ساتھ سرزمین روم میں جہاد کیا، اس وقت ہمارا امیر ایک قریشی تھا، اس نے شراب پی تو ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی۔ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد جاری کرو گے حالانکہ تم دشمن کے قریب ہو، اس طرح تو دشمن تم پر چڑھ دوڑے گا ؟ اس امیر نے کہا کہ میں ضرور شراب پیوں گا اگرچہ یہ حرام ہے اور میں ضرور شراب پیوں گا خواہ کسی کو برا لگے۔