(۱۹۸۲۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ہَمَّامُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ ، أَنَّ أَبَا حُصَیْنٍ حَدَّثَہُ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَہُ ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَلِّمْنِی عَمَلاً یَعْدِلُ الْجِہَادَ ، قَالَ : لاَ أَجِدُہُ ، قَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعُ إذَا خَرَجَ الْمُجَاہِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَک فَتَقُومَ لاَ تَفْتُرَ وَتَصُومَ ، لاَ تُفْطِرَ ؟ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ ذَلِکَ ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إنَّ فَرَسَ الْمُجَاہِدِ لَیَستَنُّ فِی طِوَلِہِ فَتُکْتَبُ بِہِ حَسَنَاتُہُ۔ (بخاری ۲۷۸۵۔ احمد ۲/۳۴۴)
(١٩٨٢٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو جہاد کے برابر ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تو کسی ایسے عمل کو نہیں جانتا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد نکل جائے تو مسجد میں جاؤ اور بغیر سستی کے نماز پڑھو اور بغیر افطار کیے مسلسل روزے رکھو ؟ اس نے کہا : میں تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب مجاہد کا گھوڑا اپنی رسی میں چکر لگاتا ہے پھر بھی مجاہد کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے۔