(۱۹۸۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا أَتَی أَبُو عُبَیْدَۃَ الشَّامَ حُصر ہُوَ وَأَصْحَابُہُ وَأَصَابَہُمْ جَہْدٌ شَدِیدٌ ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : سَلاَمٌ عَلْیک، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ لَمْ تَکُنْ شِدَّۃٌ إِلاَّ جَعَلَ اللَّہُ بَعْدَہَا مَخْرَجًا ، وَلَنْ یَغْلِبَ عُسْرٌ یُسْرَیْنِ ، وَکَتَبَ إلَیْہِ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ أَبُو عُبَیْدَۃَ : سَلاَمٌ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ، قَالَ : {اعلموا أَنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ} إلَی آخَرِ الآیَۃِ ، قَالَ : فَخَرَجَ عُمَرُ بِکِتَابِ أَبِی عُبَیْدَۃَ فَقَرَأَہُ عَلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ ، إنَّمَا کَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یُعَرِّضُ بِکُمْ وَیَحُثُّکُمْ عَلَی الْجِہَادِ ، قَالَ زَیْدٌ : فَقَالَ أَبِی : فَإِنِّی لَقَائِمٌ فِی السُّوقِ إذْ أَقْبَلَ قَوْمٌ مُبْیَضِّینَ قَدَ اطَّلَعُوا مِنَ الثَّنْیَۃِ فِیہِمْ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ یُبَشِّرُونَ النَّاسَ ، قَالَ: فَخَرَجْت أَشْتَدُّ حَتَّی دَخَلَتْ عَلَی عُمَرَ فَقُلْت : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَبْشِرْ بِنَصْرِ اللہِ وَالْفَتْحِ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّہُ أَکْبَرُ رُبَّ قَائِلٍ لَوْ کَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ۔
(١٩٨٣٤) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ (رض) شام آئے تو ان کا اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کرلیا گیا۔ اس وقت وہ شدید تکلیف کا شکار ہوئے۔ انھوں نے مشکل کی اس گھڑی میں مدد کے لیے حضرت عمر (رض) کو خط لکھا۔ حضرت عمر (رض) نے خط کا جواب ان الفاظ کے ساتھ دیا : ” اما بعد ! اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے بعد آسانی رکھی ہے، ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو عبیدہ (رض) کو یہ آیت بھی لکھ بھیجی (ترجمہ) اے ایمان والو ! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو۔ (آل عمران : آخری آیت)
حضرت ابوعبیدہ (رض) نے پھر دوبارہ حضرت عمر (رض) کو خط لکھا جس میں یہ آیت لکھ بھیجی : (ترجمہ) جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل ، تماشا، زینت، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی حرص ہی تو ہے۔ (الحدید : ٢٠)
حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو عبیدہ (رض) کا یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ اے مدینہ کے لوگو ! ابو عبیدہ (رض) تمہیں جہاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ سفید لباس والے کچھ لوگ گھاٹی سے نیچے اترے ہوئے نظر آئے، ان میں حضرت حذیفہ بن یمان (رض) بھی تھے۔ وہ لوگوں کو فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں خوشی سے سرشار حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچا اور میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! فتح کی خوشخبری ہو ! حضرت عمر (رض) نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا کہ کاش خالد بن ولید (رض) کی فتح کی خوشخبری دینے والا بھی آجائے۔