(۱۹۸۵۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْن أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی الْخَیْرِ ، عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، أَنَّہُ قَالَ إنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ عَامَ تَبُوکَ وَہُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ إلَی نَخْلَۃٍ ، فَقَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ؟ إنَّ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ رَجُلاً یَحْمِلُ فِی سَبِیلِ اللہِ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ ، أَوْ ظَہْرِ بَعِیرِہِ ، أَوْ عَلَی قَدَمَیْہِ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلاً فَاجِرًا یَقْرَأُ کِتَابَ اللہِ لاَ یَرْعَوِی إلَی شَیْئِ مِنْہُ۔ (احمد ۳/۳۷۔ حاکم ۶۷)
(١٩٨٥٨) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں بہترین اور بدترین آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بہترین آدمی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے یا اونٹ پر سوار ہو یا پیدل ہو اور اسے موت آجائے۔ بدترین آدمی وہ، جو فاجر اور بےحیا آدمی ہے جو اللہ کی کتاب پڑھتا تو ہے لیکن اس کے مضامین پر کان نہیں دھرتا۔