hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 19864

.

ابن أبي شيبة

19864
Ibn Abi Shaybah
(۱۹۸۶۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کَانَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ ، وَأَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ فِی الْمَسْجِدِ فَجَائَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ قَیْسٍ ، فَسَمَّاہُ بِاسْمِہِ ، فَقَالَ : أَرَأَیْت إِنْ أَنَا أَخَذْت سَیْفِی فَجَاہَدْت بِہِ أُرِیدُ وَجْہَ اللہِ فَقُتِلْت وَأَنَا عَلَی ذَلِکَ ، أَیْنَ أَنَا ؟ قَالَ فِی الْجَنَّۃِ ، قَالَ حُذَیْفَۃُ عِنْدَ ذَلِکَ اسْتَفْہَمَ الرَّجُلُ وَأَفْہِمْہُ فَلَیَدْخُلَنَّ النَّارَ کَذَا وَکَذَا یَصْنَعُ ، مَا قَالَ ہَذَا ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنْ أَخَذْت سَیْفَک فَجَاہَدْت بِہِ فَأَصَبْت الْحَقَّ فُقَتِلْتَ وَأَنْتَ عَلَی ذَلِکَ فَأَنْتَ فِی الْجَنَّۃِ ، وَمَنْ أَخْطَأَ الْحَقَّ فَقُتِلَ وَہُوَ عَلَی ذَلِکَ ، فَلَمْ یُوَفِّقْہُ اللَّہُ ، وَلَمْ یُسَدِّدْہُ دَخَلَ النَّارَ ، قَالَ الْقَوْمُ : صَدَقْت۔ (عبدالرزاق ۹۵۶۵)
(١٩٨٦٥) حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ، حضرت ابو مسعود انصاری (رض) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) مسجد میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے عبداللہ بن قیس (رض) ! اگر میں اپنی تلوار پکڑ کر اللہ کی رضا کے جذبے پر قائم رہتے ہوئے جہاد کروں اور اسی جذبہ پر قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا ؟ انھوں نے فرمایا : جنت میں، حضرت حذیفہ (رض) نے اس موقع پر فرمایا کہ اس شخص کی بات کو سمجھو اور اسے ٹھیک بات سمجھاؤ، کیونکہ بات کو غلط سمجھنے کی وجہ سے یہ جہنم میں بھی جاسکتا ہے۔ پھر حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ اگر تم نے حق کو درست طریقے سے سمجھا پھر اپنی تلوار لے کر اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے تو جنت میں جاؤ گے لیکن اگر کوئی شخص حق کو سمجھنے میں غلطی کرے اور اس کو راہ حق کی ہدایت نہ ملے، اس پر وہ قتل ہوجائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اس پر سب لوگوں نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔