(۱۹۸۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی قَیْسُ بْن بِشْرٍ التَّغْلِبِیُّ ، قَالَ : کَانَ أَبِی جَلِیسًا لأَبِی الدَّرْدَائِ بِدِمَشْقَ ، وَکَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُقَالُ لَہُ ابْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَکَانَ الرَّجُلُ مُتَوَحِّدًا ، قَلَّمَا یُجَالِسُ النَّاسَ ، إنَّمَا ہُوَ یُصَلِّی فَإِذَا انْصَرَفَ ، فَإِنَّمَا ہُوَ تَسْبِیحٌ وَتَہْلِیلٌ ، حَتَّی یَأْتِیَ أَہْلَہُ ، فَمَرَّ بِنَا ذَاتَ یَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِی الدَّرْدَائِ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ کَلِمَۃً تَنْفَعُنَا ، وَلاَ تَضُرُّک ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمُنْفِقُ عَلَی الْخَیْلِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، کَبَاسِطِ یَدَیْہِ بِالصَّدَقَۃِ لاَ یَقْبِضُہَا ، ثُمَّ مَرَّ بِنَا یَوْمًا آخَرَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : کَلِمَۃٌ تَنْفَعُنَا وَلاَ تَضُرُّکَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّکُمْ قَادِمُونَ عَلَی إخْوَانِکُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَکُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَکُمْ حَتَّی تَکُونُوا کَأَنَّکُمْ شَامَۃً فِی النَّاسِ ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ۔
(ابوداؤد ۴۰۸۶۔ احمد ۴/۱۷۹)
(١٩٨٧٣) حضرت قیس بن بشر تغلبی (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدردائ (رض) کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ دمشق میں ابن حنظلیہ (رض) نام کے ایک گوشہ نشین انصاری صحابی بھی موجود تھے۔ وہ لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہوتے تو تسبیح و تہلیل کرتے اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ وہ ہمارے پاس سے گذرے ، ہم حضرت ابو الدردائ (رض) کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انھوں نے سلام کیا تو حضرت ابو الدردائ (رض) نے فرمایا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس کے بتانے سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرنے والا ایسا ہے جیسے صدقہ کو مسلسل بلا روکے جاری رکھنے والا۔ پھر وہ ایک دن ہمارے پاس سے گذرے اور سلام کیا تو حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنی ہو تو اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کرلیا کرو تاکہ لوگوں میں بیٹھے ہوئے برے نہ لگو۔ اللہ تعالیٰ برے کام کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔