(۱۹۸۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ أَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیہَا أَحَبُّ إلَی اللہِ مِنْ ہَذِہِ الأَیَّامِ ، یَعْنِی أَیَّامَ الْعَشْرِ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ ؟ قَالَ : وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذَلِکَ بِشَیْئٍ۔ (بخاری ۹۶۹۔ ابوداؤد ۲۴۳۰)
(١٩٨٨٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عمل صالح کے لیے اللہ تعالیٰ کو ذوالحجہ کے دس دن سے زیادہ محبوب دن اور کوئی نہیں۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ دن اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ دن اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہیں۔ البتہ اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنا مال لے کر جائے اور کچھ بھی واپس نہ لائے۔