(۲۰۱۱۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِی عُبَیْدَۃَ فِی سَرِیَّۃٍ فَنَفِذَ زَادُنَا فَمَرَرْت بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَہُ الْبَحْرُ فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْکُلَ مِنْہُ فَنَہَانَا أَبُو عُبَیْدَۃَ ، ثُمَّ قَالَ : نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی سَبِیلِ اللہِ تبارک وتعالی کُلُوا فَأَکَلْنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرْنَا ذَلِکَ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ بَقِیَ مَعَکُمْ مِنْہُ شَیْئٌ فَابْعَثُوا بِہِ إلَیَّ۔
(بخاری ۲۴۸۳۔ مسلم ۱۷)
(٢٠١١٧) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حضرت ابو عبیدہ (رض) کے ساتھ ایک لشکر میں روانہ کیا اس سفر میں ہمارا توشہ سفر ختم ہوگیا۔ اس اثناء میں ہم نے ایک (بہت بڑی) مچھلی دیکھی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھانے کا ارادہ کیا تو پہلے تو حضرت ابو عبیدہ نے ہمیں منع کردیا پھر فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم اللہ کے راستے میں ہیں۔ اس مچھلی کو کھالو۔ چنانچہ ہم نے اسے کھالیا۔ پھر جب ہم واپس آئے تو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر اس مچھلی کا کچھ حصہ تمہارے پاس ہو تو مجھے بھی دو ۔