(۲۰۱۸۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ الأَسَدِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاہُ أَعْرَابِیٌّ، فَقَالَ : کُنْت فِی غَنَمٍ فَعَلاَ الذِّئْبُ فبقر النَّعْجَۃُ مِنْ غَنَمِی فَنَثَرَ قَصْبَہَا فِی الأَرْضِ ، فَأَخَذْت ظِرَارًا مِنَ الأَظرۃِ فَضَرَبْت بَعْضَہُ بِبَعْضٍ حَتَّی صَارَ لِی مِنْہُ کَہَیْئَۃِ السِّکِّینَ فَذَبَحْتُ بِہِ الشَّاۃَ وَأَہْرَقْتُ بِہِ الدَّمَ وَقَطَعْت الْعُرُوقَ ، فَقَالَ : انْظُرْ مَا مَسَّ الأَرْضَ مِنْہَا فَاقْطَعْہُ ، فَإِنَّہُ قَدْ مَاتَ وَکُلْ سَائِرَہَا۔
(٢٠١٨٤) حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے بکریوں کے ریوڑ کو چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بھیڑ پر حملہ کردیا۔ اس نے بھیڑ کو بالکل نڈھال کردیا نا اور اس کی انتڑی باہر نکال دی۔ میں نے ایک پتھر کو توڑ کر چھری کی طرح بنایا اور اس سے بکری کو ذبح کردیا۔ اس کا خون بھی بہا اور اس کی رگیں بھی کٹ گئیں۔ اب فرمائیں کہ اس بکری کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جو حصہ زمین پر گرگیا تھا اسے پھینک دو اور باقی کو کھالو۔