hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 20283

.

ابن أبي شيبة

20283
Ibn Abi Shaybah
(۲۰۲۸۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وعلیہ الْکَآبَۃَ فَقُلْتُ : مَا لَکَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : إنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَعَدَنِی أَنْ یَأْتِیَنِی فلم یأتینی مُنْذُ ثَلاَثٍ ، قَالَ : فأجاز کَلْبٌ ، قَالَ أُسَامَۃُ : فَوَضَعْت یَدِی عَلَی رَأْسِی وَصِحْت ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا لَکَ یَا أُسَامَۃَ ؟ فَقُلْت : أجاز کَلْبٌ ، فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِہِ فَقُتِلَ۔ (مسلم ۸۲۔ طبرانی ۳۸۷)
(٢٠٢٨٤) حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! خیریت تو ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے۔ اتنے میں ایک کتا وہاں سے گذرا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور میں چلایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے اسامہ کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک کتا گذرا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے مارنے کا حکم دیا اور اسے مار دیا گیا۔