(۲۰۳۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ مَحْمُولٍ ، مَوْلَی آلِ عُمَارَۃَ ، قَالَ : بِعْتُ مِنْ رَجُلٍ بُرْدَیْنِ وَشَرَطْتُ عَلَیْہِ : إِنْ نَشَرَ أَحَدَہُمَا فَقَدْ وَجَبَ ، فَنَشَرَ أَحَدَہُمَا فَلَمْ یَرْضَہُ ، فَجَائَ یَرُدُّہُمَا فَأَبَیْتُ عَلَیْہِ ، فَخَاصَمْتُہُ إلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ : لک الرِّضَی ، وَلَیْسَ لَہُ ، إنَّمَا الْبَیْعُ ، عَنْ تَرَاضٍ۔
(٢٠٣٤٣) حضرت محمول مولی آل عمارہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دو چادریں فروخت کیں اور شرط لگائی کہ اگر تم نے ایک چادر کو کھولا تو دونوں کی بیع لازم ہوگی۔ اس نے ایک چادر کو کھولا، پھر وہ اس بیع سے راضی نہ ہوا اور مجھے واپس کرنے کے لیے آگیا۔ میں نے واپس کرنے سے انکار کیا اور یہ مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گیا انھوں نے فرمایا کہ تیری رضا ہے اس کی نہیں ہے جبکہ بیع تو باہمی رضامندی کا نام ہے۔