(۲۰۳۵) حَدَّثَنَا زَاجِرُ بْنُ الصَّلْتِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَی مَنْزِلِ الْحَسَنِ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ، الرَّجُلُ یَبِیتُ فِی الثَّوْبِ ، فَیُصْبِحُ وَفِیہِ مِنْ دَمِ الْبَرَاغِیثِ شَیْئٌ کَثِیرٌ یَغْسِلُہُ ، أَوْ یَنْضَحُہُ ، أَوْ یُصَلِّی فِیہِ ؟ قَالَ : لاَ یَنْضَحُہُ ، وَلاَ یَغْسِلُہُ ، یُصَلِّی فِیہِ۔
(٢٠٣٥) حضرت حارث بن مالک کہتے ہیں کہ میں حضرت حسن کے گھر میں ان کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کپڑے میں رات گذارے اور صبح اس کے کپڑوں پر پسو کا بہت سا خون لگا ہو تو کیا وہ اسے دھوئے، یا اس پر پانی چھڑکے یا انہی میں نماز پڑھ لے ؟ فرمایا کہ نہ اس پر پانی چھڑکے، نہ اسے دھوئے بلکہ اسی حال میں نماز پڑھ لے۔