(۲۰۳۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إنِّی أَسْلَفْتُ رَجُلاً أَلْفَ دِرْہَمٍ فِی طَعَامٍ ، فَأَخَذْتُ مِنْہُ نِصْفَ سَلَفِی طَعَامًا ، فَبِعْتُہُ بِأَلْفِ دِرْہَمٍ، ثُمَّ أَتَانِی فَقَالَ : خُذْ بَقِیَّۃَ رَأْسِ مَالِکَ : خَمْسَ مِئَۃٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَلِکَ الْمَعْرُوفُ ، وَلَہُ أَجْرَانِ۔
(٢٠٣٥٥) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے ایک ہزار درہم پر ایک آدمی سے غلے کی وصولی کے لیے بیع سلم کی۔ میں نے اس سے غلہ کا آدھا حصہ لیا اور اسے ایک ہزار درہم کا بیچ دیا۔ پھر وہ میرے پاس آیا اور راس المال کا آدھا یعنی پانچ سو درہم مجھے واپس کر دئیے، یہ کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ معروف ہے اور اسے دو بدلے ملیں گے۔