(۲۰۴۷۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَوْفٍ ، قَالَ : قرِئَ عَلَیْنَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَیُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَکَ رَجُلٌ مَالَہُ بِعَیْنِہِ ، فَہُوَ أَحَقُّ مِنْ سَائِرِ الْغُرَمَائِ إلاَّ أَنْ یَکُونَ اقْتَضَی مِنْ مَالِہِ شَیْئًا ، فَہُوَ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٢٠٤٧٣) حضرت عوف فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط پڑھا گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص مفلس ہوجائے اور اس کے پاس کسی شخص کا سامان بعینہ موجود ہو تو وہ باقی غرماء سے زیادہ مستحق ہوگا۔ البتہ اگر اس نے اس کے مال میں کچھ کما لیا تو وہ قرض خواہوں کے حصے میں آئے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔