(۲۰۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا اشْتَرَی الرَّجُلُ الْمَتَاعَ فَقَالَ : الْمُشْتَرِی : انْقُلْہُ إلَیَّ ، وَقَالَ الْبَائِعُ : لاَ حَتَّی تَأْتِیَنِی بِالثمنِ فَہَذَا بِمَنْزِلَۃِ الرَّہْنِ ، إِنْ ہَلَکَ ، فَہُوَ مِنْ مَالِ الْبَائِعِ ، وَإِنْ قَالَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِی : انْقُلْہُ ، فَقَالَ : دَعْہُ حَتَّی آتِیَک بِالثمن ، فَہَذَا بِمَنْزِلَۃِ الْوَدِیعَۃِ ، إِنْ ہَلَکَ ، فَہُوَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی ، وَیَبِیعُ ہَذَا ، وَلاَ یَبِیعُ ذَاکَ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَکَرْتہ لِمُحَمَّدٍ فَقَالَ : صَدَقَ أَظُنُّ۔
(٢٠٥٣٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی اور مشتری نے کہا کہ اسے میرے حوالے کردو، بائع نے کہا کہ جب تک تم ثمن نہ لے آؤ میں تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ رہن کے درجہ میں ہوگا۔ اگر وہ ہلاک ہوا تو بائع کے مال میں سے ہوگا۔ اور اگر بائع نے مشتری سے کہا کہ اسے اپنے قبضے میں لے لو اور مشتری نے کہا کہ میں جب تک قیمت نہ لے آؤں اس وقت تک قبضہ نہ کروں گا تو یہ ودیعت کے حکم میں ہوگا۔ اگر ہلاک ہوا تو مشتری کے مال سے ہلاک ہوگا۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت محمد سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں انھوں نے سچ کہا۔