hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 20569

.

ابن أبي شيبة

20569
Ibn Abi Shaybah
(۲۰۵۷۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُہَاجِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بَعَثَ عمیرۃ بْنَ یزِید الْفِلَسْطِینِیَّ یَبِیعُ السَّبْیَ فِیمَنْ یَزِیدُ ، فَلَمَّا فَرَغَ جَائَہُ فَقَالَ لَہُ : عُمَرُ : کَیْف کَانَ الْبَیْعُ الْیَوْمَ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ کَاسِدًا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لَوْلاَ أَنِّی کُنْتُ أَزِیدَ عَلَیْہِمْ فَأُنْفِقُہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : کُنْتَ تَزِیدُہُ عَلَیْہِمْ ، وَلاَ تُرِیدُ أَنْ تَشْتَرِیَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ عُمَرُ ہَذَا النَّجْشُ لاَ یَحِلُّ ، ابْعَثْ یَا عمیرۃ مُنَادِیًا یُنَادِی أَلاَ إنَّ الْبَیْعَ مَرْدُودٌ إِنَّ النَّجْشَ لاَ یَحِلُّ۔
(٢٠٥٧٠) حضرت عمرو بن مہاجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عمیرو بن یزید فلسطینی کو بھیجا تاکہ وہ قیدیوں کو نیلام کردیں۔ جب وہ فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ آج کی بیع کسی رہی ؟ انھوں نے فرمایا کہ اے امیر المؤمنین ! اگر میں خود بیچ میں جا کر بھاؤ نہ بڑھاتا تو آج مندا ہوجاتا۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم محض بھاؤ بڑھانے کے لیے خریدنے کے ارادے کے بغیر بولی لگاتے رہے ؟ انھوں نے اقرار کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ نجش ہے یہ حلال نہیں، اے عمیرہ ! اعلان کرو دو کہ بیع مردود ہے اور نجش حلال نہیں ہے۔