(۲۰۶۴۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّ رَجُلاً تَرَکَ امْرَأَتَہُ وَابْنًا لَہُ وَجَارِیَتَہُ ، فَبَاعَتِ امْرَأَتُہُ وَابْنُہُ الْجَارِیَۃَ ، فَوَطِئَہَا الَّذِی ابْتَاعَہَا فَوَلَدَتْ ، ثُمَّ جَائَ صَاحِبُ الْجَارِیَۃِ فَتَعَلَّقَ بِہَا، فَخَاصَمَہُ إلَی عَلِیٍّ فَقَالَ : عَلِیٌّ : بَاعَتِ امْرَأَتُک وَابْنُک وَقَدْ وَلَدَتْ مِنَ الرَّجُلِ ، سَلِّمَ الْبَیْعَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنْشُدُک اللہ لَمَا قَضَیْتَ بِکِتَابِ اللہِ ، فَقَالَ : خُذْ جَارِیَتَکَ وَوَلَدَہَا ، وَقَالَ لِلآخَرِ : خُذِ الْمَرْأَۃَ وَالإِبْنَ بِالْخَلاَصِ ، فَلَمَّا أَخَذَ سَلَّمَ الآخَرُ الْبَیْعَ۔
(٢٠٦٤٧) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے لیے ایک باندی چھوڑی، اس کی بیوی اور بیٹے نے اس باندی کو فروخت کردیا، خریدار نے اس باندی کے ساتھ جماع کیا اور اس کی اولاد بھی ہوئی، اس کے بعد باندی کا مالک آگیا اور اس نے باندی کو حاصل کرنا چاہا، یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس پیش ہوا، حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا کہ تیری باندی کو تیری بیوی اور تیرے بیٹے نے فروخت کردیا ہے، اور خریدار کا اس سے بچہ بھی ہوگیا ہے تم بیع کو باقی رکھو، اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں فرمایا، حضرت علی (رض) نے اس آدمی سے فرمایا کہ اپنی باندی اور اس کے بچے کو لے جاؤ، پھر آپ نے دوسرے آدمی سے فرمایا کہ عورت اور اس کے بیٹے سے خلاص لے لو، جب ان سے خلاص لے لیا گیا تو دوسرے آدمی نے بیع کو سپرد کردیا۔
٭ حدیث نمبر ٢٠٦٤٧ سے خلاص کا معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو بیچ دے اور خریدنے والا اس کو استعمال کرنے لگے۔ پھر اس چیز میں کوئی حقدار نکل آئے تو بائع سے اس چیز کی اصل قیمت بھی لی جائے گی اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے اضافی تاوان بھی وصول کیا جائے گا۔