(۲۰۶۴۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، أَنَّ امْرَأَۃً بَاعَتْ دَارًا لِزَوْجِہَا وَہُوَ غَائِبٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَی أَنْ یُجِیزَ الْبَیْعَ فَخَاصَمَہُ فِیہَا إلَی إیَاسِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ ، فَجَعَلَ الْمُشْتَرِی یَقُولُ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ ، أَنْفَقْت فِیہَا أَلْفَیْ دِرْہَمٍ ، فَقَالَ : الْفَاک عَلَیَّ الْفَاک عَلَیَّ ، قَالَ : فَقَضَی لِلرَّجُلِ بِدَارِہِ وَأَمَرَ امْرَأَتَہُ إلَی السِّجْنِ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ جَوَّزَ الْبَیْعَ۔
(٢٠٦٤٩) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں اس کا گھر بیچ دیا، جب وہ واپس آیا تو اس نے بیع کو جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ مقدمہ حضرت ایاس بن معاویہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مشتری نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے کہ میں نے تو اس پر دو ہزار درہم خرچ کر دئیے ہیں، اس نے کہا کہ تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، حضرت ایاس نے مکان کا فیصلہ اس آدمی کے حق میں کردیا اور عورت کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا جب انھوں نے اس چیز کو دیکھا تو بیع کو جائز قرار دے دیا۔