(۲۰۶۷۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی حَکَم الْغِفَارِیِّ یَقُولُ : حَدَّثَتْنِی جَدَّتِی ، عَنْ عَمِّ أَبِی رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ أَرْمِی نَخْلَ الأَنْصَارِ ، فَقِیلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ ہَاہُنَا غُلاَمًا یَرْمِی نَخْلَنَا ، فَأُتِیَ بِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا غُلاَمُ ، لِمَ تَرْمِی النَّخْلَ ؟ : قُلْتُ: آکُلُ ، قَالَ : فَلاَ تَرْمِ النَّخْلَ وَکُلْ مِمَّا سَقَطَ فِی أَسْفَلِہَا ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِی ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَہُ۔
(ترمذی ۱۲۸۸۔ ابوداؤد ۲۶۱۵)
(٢٠٦٧٧) حضرت رافع بن عمرو غفاری کہتے ہیں کہ میں چھوٹا لڑکا تھا اور انصار کے درختوں پر پھل اتارنے کے لیے پتھر مارتا تھا، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا گیا کہ ایک لڑکا ہمارے درختوں پر پتھر مارتا ہے، پھر مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے ! تم درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں کھجوریں کھانا چاہتا ہوں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ درختوں پر پتھر نہ مارو، جو نیچے گریں وہ کھالو، پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔