(۲۰۶۹۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِی غُبَرَ ، قَالَ : أَصَابَتْنَا سَنَۃٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَأَخَذْت سُنْبُلاً فَفَرَکْتُہُ ، فَجَائَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِی وَأَخَذَ کِسَائِی ، فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا أَطْعَمْتَہُ إذْ کَانَ جَائِعًا ، أَوْ سَاغِبًا ، وَلاَ عَلَّمْتَہُ إذْ کَانَ جَاہِلاً ، وَأَخَذَ ثَوْبَہُ فَرَدَّہُ عَلَی صَاحِبِہِ۔ (ابوداؤد ۲۶۱۳۔ ابن ماجہ ۲۲۹۸)
(٢٠٦٩٣) بنو نمیر کے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے ایک خوشہ توڑ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا اور اس نے مجھے مارا اور میری چادر چھین لی، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ جب وہ بھوکا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہ کھلایا اور جب وہ نہیں جانتا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہیں بتایا، پھر آپ نے کپڑا مجھے واپس دلوادیا۔