(۲۰۸۳۶) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ یَشْتَرِی مِنَ الرَّجُلِ الشَّیْئَ فَیَقُولُ: إِنْ کَانَ بِنَقْدٍ فَبِکَذَا، وَإِنْ کَانَ إلَی أَجَلٍ فَبِکَذَا، قَالَ: لاَ بَأْسَ إذَا انْصَرَفَ عَلَی أَحَدِہِمَا قَالَ: شُعْبَۃُ، فَذَکَرْت ذَلِکَ لَمُغِیرَۃَ فَقَالَ: کَانَ إبْرَاہِیمُ لاَ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا إذَا تَفَرَّقَ عَلَی أَحَدِہِمَا۔
(٢٠٨٣٦) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص چیز خریدتے ہوئے کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، جب اس نے جدائی سے پہلے ایک معاملے کو اختیار کرلیا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت مغیرہ سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب وہ دونوں میں سے ایک بات پر راضی ہو کر جدا ہوں تو حضرت ابراہیم بھی اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔