(۲۰۸۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا : لَیْتَنَا قَدْ رَأَیْنَا بَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَبین عُثْمَانَ بَیْعًا ، حَتَّی نَنْظُرَ أَیُّہُمَا أَعْظَمُ جَدًّا فِی التِّجَارَۃِ ، فَاشْتَرَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ عُثْمَانَ أَفْرَاسًا بِأَرْبَعِینَ أَلْفًا ، وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِ إِنْ کَانَتِ الصَّفْقَۃُ أَدْرَکَتْہَا وَہِیَ حَیَّۃٌ مَجْمُوعَۃٌ إلَی الرَّاعِی لَیْسَتْ بِضَالَّۃٍ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ ، ثُمَّ جَاوَزَ شَیْئًا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا صَنَعْتُ ؟ فَرَجَعَ إلَیْہِ فَقَالَ : أَزِیدُک سِتَّۃَ آلاَفٍ عَلَی إِنْ أَدْرَکَہَا الرَّسُولُ وَہِیَ حَیَّۃٌ فَعَلَیَّ ، فَأَدْرَکَہَا الرَّسُولُ وَقَدْ نَفَقَتْ ، فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنَ الضَّمَانِ بِالشَّرْطِ الآخِرِ۔
(٢٠٨٩٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ کاش ہم حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفان (رض) کے درمیان ہونے والی بیع کو دیکھ لیں تاکہ ہم جان لیں کہ تجارت میں ان دونوں میں سے کون زیادہ محنت کرنے والا ہے، پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے چالیس ہزار درہم کے بدلے کچھ گھوڑے خریدے اور شرط لگائی کہ جب معاملہ پورا ہو تو سب گھوڑے زندہ ہوں، چرواہے کے پاس جمع ہوں اور گم نہ ہوں، پس جب بیع کا معاملہ طے ہوگیا اور حضرت عبد الرحمن (رض) تھوڑا آگے بڑھے تو دل میں خود سے کہا کہ تم نے کیا کیا ؟ پھر حضرت عثمان (رض) کی طرف واپس گئے اور ان سے کہا کہ میں تمہارے لیے چھ ہزار زیادہ کردوں گا اگر قاصد ان کو زندہ ہونے کی حالت میں پہنچا دے، پس جب قاصد ان کو لے کر آیا تو ان میں کچھ مرگئے تھے، اس طرح حضرت عبد الرحمن (رض) دوسری شرط کے ساتھ ضمان سے نکل گئے۔