(۲۰۹۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ ہَرَبَ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فأمَّنَہُ وَأَسْلَمَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُرِیدُ حُنَیْنًا فَقَالَ : یَا صَفْوَانُ ، ہَلْ لَکَ مِنْ سِلاَحٍ ؟ قَالَ : عَارِیَّۃً أَمْ غَصْبًا؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ عَارِیَّۃً ، فَأَعَارَہُ مَا بَیْنَ الثَّلاَثِینَ إلَی الأَرْبَعِینَ دِرْعًا ، وَغَزَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُنَیْنًا ، فَلَمَّا ہَزَمَ المُشرکین جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ ، فَفَقَدَ مِنْہَا أَدْرَاعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا صَفْوَانُ ، إنَّا فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِکَ أَدْرَاعًا فَہَلْ نَغْرَمُ لَکَ ؟ فَقَالَ : لاَ یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إنَّ فِی قَلْبِی الْیَوْمَ مَا لَمْ یَکُنْ۔ (ابوداؤد ۳۵۵۸۔ احمد ۳/۴۰۱)
(٢٠٩٣٥) حضرت عبداللہ بن صفوان کی اولاد کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفوان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے بھاگ گئے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف آدمی بھیجا، انھیں امان دیا اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی طرف جارہے تھے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے صفوان تمہارے پاس ہتھیار ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ عاریہ کے طور پر چاہیے یا غصب کے طور پر، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عاریہ کے طور پر، پس حضرت صفوان نے تیس زرہیں بطور عاریہ کے پیش کردیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی لڑائی لڑی، جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو حضرت صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں، چند زرہیں کم تھی، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے صفوان ! ہم نے تمہاری کچھ زرہیں کھو دی ہیں، کیا ہم آپ کے لیے ان کی متبادل زرہوں کا انتظام کردیں ؟ حضرت صفوان نے فرمایا کہ نہیں اے اللہ کے رسول ! جو چیز میرے دل میں آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔