(۲۰۹۴۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَی عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ : سُلَیْمَانُ ؟ فَقُلْتُ : سُلَیْمَانُ ، فَقَالَتْ : أَدَّیْت مَا بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ کِتَابَتِکَ التی قَاطَعْت أہلک عَلَیْہَا ، قُلْتُ : نَعَمْ ، إلاَّ شَیْئًا یَسِیرًا قَالَتْ : ادْخُلْ فَإِنَّکَ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْکَ شَیْئٌ۔
(٢٠٩٤٧) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کی اجازت چاہی، آپ نے سوال کیا سلیمان ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں سلیمان ہوں، حضرت عائشہ (رض) نے سوال کیا کہ تمہارے مالکوں کا جو بدل کتابت تم پر باقی تھا کیا تم نے ادا کردیا ؟ میں نے کہا جی ہاں، تھوڑا سا باقی ہے، انھوں نے فرمایا کہ پھر تم آجاؤ کیونکہ جب تک تم پر تھوڑا سا بھی بدل کتابت باقی ہے تم غلام ہی ہو۔