(۲۱۰۹۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ لِغُلاَمِہِ : نِصْفُکَ حُرٌّ ، قَالَ : إِنْ کَانَ کَمَا یَقُولُونَ : الضَّمَانُ حَقٌّ ، فَہُوَ عَتِیقٌ ، وَکَانَ مِنْ رَأْیِ الْحَکَمِ أَنْ یُعْتِقَہُ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ حَمَّادًا فَقَالَ : یَعْتِقُ نِصْفَہُ وَیَسْعَی فِی النِّصْفِ الْبَاقِی
(٢١٠٩٥) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ تیرا آدھا حصہ آزاد ہے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ ضمان حق ہے وہ آزاد ہوجائے گا۔ حضرت حکم کی رائے یہ تھی کہ اسے آزاد کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کے نصف کو آزاد کر دے اور باقی کے لیے وہ کوشش کرے گا۔