(۲۱۱۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْجَسْرِیِّ جَسْرِ عَنَزَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ: الرَّجُلُ مِنَّا یُرِیدُ أَنْ یُعْتِقَ الْمُعْتَقَ ، قَالَ : إذَا اشْتَرَیْت مُعْتَقًا تُرِیدُ أَنْ تُعْتِقَہُ فَلاَ تَشْتَرِطْ لأَِہْلِہِ الْعِتْقَ ، فَإِنَّہَا عُقْدَۃٌ مِنَ الرِّقِّ ، وَلَکِنِ اشْتَرِہِ سَاکِتًا ، فإنْ شِئْتَ أَمْسَکْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْتَقْتَ۔
(٢١١٧٣) حضرت ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معقل بن یسار سے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی غلام کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہتا ہے تو وہ کیا طریقہ اختیار کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جب تم کسی غلام کو آزاد کرنے کی نیت سے خریدو تو اس کے مالک سے آزادی کا تذکرہ کرکے نہ خریدو، بلکہ خاموشی سے خریدو پھر اگر چاہو تو روک لو اور اگر چاہو تو اسے آزاد کردو۔