(۲۱۲۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ وَحُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ ، فَأَہْدَی إلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ : لَیْسَت بِمَالٍ ، وَأَرْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللہِ ، لآتِیَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلأَسْأَلَنَّہُ، فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، رَجُلٌ أَہْدَی إلیَّ قَوْسًا مِمَّنْ کُنْتُ أُعَلِّمُہُ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ ، وَلَیْسَتْ بِمَالٍ ، وَأَرْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔
(ابوداؤد ۳۴۰۹۔ احمد ۵/۳۱۵)
(٢١٢٣٧) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ مدرسہ صفہ کے کچھ طلبہ کو میں نے کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی، پس میں نے یہ کہتے ہوئے قبول کرلیا کہ یہ مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتے وقت دشمن پر تیر برساؤں گا۔ میں نے کہا کہ میں ضرور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھوں گا۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی ہے ، کیونکہ میں نے اس کو کتابت اور قرآن کریم کی تعلیم دی تھی اور مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہتا ہے کہ کل قیامت کے دن یہ آگ کا طوق بنا کر تیرے گلے میں ڈالا جائے تو اس کو قبول کرلے۔