(۲۱۲۳۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ یُعَلِّمُ رَجُلاً مَکْفُوفًا ، فَکَانَ إذَا أَتَاہُ غَدَّاہُ ، قَالَ : فَوَجَدْتُ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنْ شَیْئاً یُتْحِفُکَ بِہِ فَلاَ خَیْرَ فِیہِ ، وَإِنْ کَانَ مِنْ طَعَامِہِ وَطَعَامِ أَہْلِہِ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔
(ابن ماجہ ۲۱۵۸۔ بیہقی ۱۲۶)
(٢١٢٣٩) حضرت ابی بن کعب (رض) نے ایک نابینا شخص کو تعلیم دی، اس کے بعد جب بھی آپ (رض) کے پاس تشریف لاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتا، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق میرے دل میں کچھ شبہ سا پیدا ہوا، میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر وہ چیز تجھے تحفہ ( اجرت) میں دیتا ہے تو تیرے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اور اگر اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے ہے تو پھر اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔