(۲۱۲۵۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْبَیِّعَیْنِ إذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبِیع قَائِمٌ بِعَیْنِہِ یَسْأَلَہُمَا الْبَیِّنَۃَ ، فَإِنْ أَقَامَ أَحَدُہُمَا الْبَیِّنَۃَ أُعْطِیَ بِبَیِّنَتِہِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُمَا بَیِّنَۃٌ اسْتَحْلَفَہُمَا ، فَإِنْ جَائَا بِہَا جَمِیعًا رَدَّ الْبَیْعَ ، وَإِنْ لَمْ یَحْلِفَا رَدَّ الْبَیْعَ ، وَإِنْ حَلَفَ أَحَدُہُمَا وَنَکَلَ الآخَرُ أَعْطَی الَّذِی حَلَفَ ۔ وَإِنْ لَمْ یَکُنِ الْبَیْعُ قَائِمًا بِعَیْنِہِ ، أَوْ قَالَ : قدِ اسْتُہْلِکَ یُکَلَّفُ الْبَائِعُ الْبَیِّنَۃَ ، وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُشْتَرِی۔
(٢١٢٥١) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور مبیع بھی بعینہ موجود ہو تو دونوں سے گواہ طلب کریں گے، اگر ان میں سے کسی ایک نے گواہ پیش کر دئیے تو اس کے گواہوں کی وجہ سے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں تو دونوں سے قسم اٹھوائی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھا لیں تو بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو بھی بیع ختم کردیں گے، اور اگر ایک قسم اٹھا لے جبکہ دوسرا انکار کر دے تو جس نے قسم اٹھائی ہے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر مبیع بعینہ موجود نہ ہو یا وہ ہلاک ہوگیا ہو تو بائع کو گواہ کا مکلف بنائیں گے اور مشتری پر قسم اٹھانے کو لازم کریں گے۔